ADVERTISEMENT:

MalazGirt 1071 ملازگرت

MalazGirt 1071 Urdu

The Apocalypse of Byzantium

WAR of ANATOLIA

ملازگرت

ملازگرت ترکی میں موجود ایک جگہ کا نام ہے جہاں 1000 سال پہلے سلجوقی سلطان الپ ارسلان اور بازنطینی شہنشاہ رومانوس کے درمیان تاریخی جنگ ہوئی تھی جس میں سلطان الپ ارسلان نے بازنطینی شہنشاہ کو شکست دی تھی اور اناطولیہ (موجودہ) ترکی پر قبضہ کیا تھا۔

دیریلیش ارتغرل میں بھی بہت بار ملازگرت کی جنگ اور سلطان الپ ارسلان کا ذکر آیا ہے۔۔۔

جنگیز جوشکم (ترگت) ملازگرت 1071 فلم میں سلطان الپ ارسلان کا کردار نبھا رہے ہیں

معرکہ ملازکرد

معرکہ ملازکرد 26 اگست 1071 کو مشرقی اناطولیہ میں جھیل وان کے شمال میں ملازکرد کے مقام پر ہوا۔
یہ معرکہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس زمانے میں مسلم سلطنتیں زیادہ تر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں پوری مسلم دنیا میں کہیں بھی مسلمان منظم نہیں تھے اور ‏مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہوئے کمزور ہورہے تھے اور اسلام دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہوچکے تھے مسلم حکمران عیاش پرست بن چکے تھے دوسری طرف بازنطینی سلطنت مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہوگئی اور بازنطینی حکمران رومانس چہارم 2 لاکھ صلیبی لشکر کے ساتھ مسلمان ‏دنیا پر یلغار کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا یہ حالات دیکھ کر سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے مسلم دنیا کو اس کے شر سے بچانے کے لیے 20 ہزار پر مشتمل ایک فوج تیار کی جن میں بہت سارے قبائل کے مجاہدین بھی شامل تھے۔ اور بازنطینی فوج کا مقابلہ کرنے کیلئے مشرقی اناطولیہ میں ملازکرد کے مقام پر پہنچ گئے
‏مگر سلطان الپ ارسلان ایک دفعہ تو صلیبیوں کا اتنا بڑا لشکر دیکھ کر گبھرا گئے مگر پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اللہ سے فتح کی دعا کرتے ہوئے ایمانی جذبے سے اٹھے اور صلیبیوں کا بھرپور مقابلہ کیا آپ کی بیس ہزار فوج نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور صلیبیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے اور ‏بازنطینی فوج کے ساتھ ساتھ بازنطینی بادشاہ رومانس کو گرفتار کر لیا۔ بعد میں سلطان الپ ارسلان نے اسے چھوڑ دیا۔ کیونکہ وہ صلیبیوں میں جنگ ہارنے کی وجہ سے ویسے بھی اپنی اہمیت کھو چکا تھا یہ جنگ مسلمانوں کے لیے اناطولیہ کا دروازہ کھولنے کے لیے بہت کار امد ثابت ہوئی اور اسلامی دنیا پر ‏دنیا پر فتح حاصل کرنے کا رومن سلطنت کا خواب سلطان الپ ارسلان نے چکنا چور کر دیا جس کا مسلمانوں کو بہت فائدہ ہوا مگر یہ جنگ یورپ کے قریب آتے ہوئے مسلمانوں کے قدم دیکھ کر صلیںی جنگوں کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوئی اس جنگ کے 25 سال بعد صلیبی جنگیں شروع ہوگی تھی۔
‏اگر سلطان الپ ارسلان یہ جنگ نہ لڑتے تو عین ممکن تھا کہ بازنطینی مسلمانوں کے اندرونی حالات دیکھتے ہوئے مسلم دنیا پر قابض ہوجاتے مگر اللہ کی رحمت سے سلطان الپ ارسلان نے صلیبیوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔

VIDEO in urdu UNDER PROCESS ….