Baba Turkish Series – (The Father) Season 1 Episode 11 Urdu Sub

جانا تھا، مگر رات کی یہ طویل ساعتیں ، اس کی بے بسی کی گواہ بنی ہوئی تھیں۔ رات کی تاریکی کا سینہ چیرتے ہوئے صبح طلوع ہونے لگی، نرم سنہری کر نیں پردوں سے چھن کر کمرے میں اترنے لگیں۔
رومان شاہ” نے ایک گہری سانس لی اور آہستہ سے “میرب” کے قریب سے اٹھا، ” جیسے ذراسی بھی آہٹ اس کے سکون کو بکھیر سکتی ہو۔ وہ خاموشی سے قدم اٹھاتے ہوئے واش روم میں داخل ہو گیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ ٹھنڈے پانی کا شاور چلا یا اور اس کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ پانی کی دھاریں جیسے اس کے اندر سلگتی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ جلتے سوال، یہ پتی بے بسی یوں ختم نہیں ہو گی۔ وہ شاید خود کو سزادے رہا تھا کہ وہ اپنی “میرب” کی حفاظت میں پھر کہیں ناکام رہا۔
اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو ۔۔۔؟”
یہ خیال، یہ سوچ ، اس کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو رہی تھی۔ وہ لمبی سانسیں لیتا، آنکھیں بند کیے پانی کو اپنے وجود سے بہنے دے رہا تھا۔ جیسے وہ اپنے احساسِ جرم کو خود پر نچھاور کر رہا ہو ۔ کافی دیر یوں ہی کھڑا رہا، پھر گہرے سانس لیتے ہوئے شاور بند کر دیا۔ چینج کرنے کے بعد وہ سٹڈی روم میں جانے سے پہلے ایک بار پھر “میرب” کے قریب آیا۔ وہ اب بھی گہری نیند میں تھی، اس کے چہرے پر پھیلا سکون “رومان شاہ” کے لیے کسی تسکین سے کم نہ تھا۔ اس نے نرمی سے “میرب” کے بالوں پر ایک نظر ڈالی اور آہستہ سے سر جھکا کر اس کے ماتھے پر ہلکا سالمس چھوڑ دیا۔
سو جاؤ میری جان، تمہاری نیند سب سے زیادہ قیمتی ہے میرے لیے۔” وہ چاہتا تھا کہ “میرب ” کچھ دیر اور یونہی بے فکری سے سوئی رہے ، اس لیے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ سٹڈی روم میں پہنچ کر اس نے سب سے پہلے جھک کر نماز ادا کی، اور پھر دعا کے لیے ہاتھ بلند کر دیے۔
اے میرے اللہ ! میں تیرا حقیر بندہ ہوں، تیری آزمائشوں پر کھرا نہیں اتر سکتا۔۔۔” میں کچھ بھی بولنے سے پہلے ڈرتا ہوں، میرے رب، کہ کہیں میری زبان سے کوئی ایسی کو تا ہی نہ ہو جائے جو مجھے تیری بارگاہ میں شرمندہ کر دے۔۔۔ اس کے الفاظ لرز رہے تھے ، مگر اس کا دل پکار رہا تھا۔ یا اللہ ! میری آزمائشوں کو ختم کر دے۔۔۔ میری “میرب” کے دل سے ہر ” خوف، ہر ڈر نکال دے۔ وہ کل بھی محفوظ تھی، آج بھی ہے ، ہمیشہ رہے۔ میں اپنوں کی حفاظت کے قابل بن جاؤں ، اے میرے پاک رب، مجھے اس آزمائش میں سرخرو ” فرما
اس کے ہاتھ لرز رہے تھے ، دل آنسوؤں سے بھیگ رہا تھا، مگر وہ جھولی پھیلائے اپنے رب سے اپنی “میرب” کے سکون اپنی محبت ، اپنے پیاروں کی خوشیوں کی بھیک مانگ رہا تھا۔
” یا اللہ ! تو میری جھولی بھر دے ” یہ دعا تھی یا ایک عاشق کی بے بسی ؟
رومان شاہ ” کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر دل میں یقین کہ اس کا رب اسے مایوس ” نہیں کرے گا۔ نماز کے بعد ، روز کی طرح ، وہ قرآن پاک کی تلاوت میں محو ہو گیا۔ اس کے دل کو سکون ملتا تھا، جیسے ہر لفظ میں ایک تحفظ ، ایک برکت پوشیدہ ہو۔ وہ اپنی “میرب” کے لیے بھی یہی سکون مانگ رہا تھا۔ تلاوت مکمل کرتے ہی، وہ اٹھا اور آہستہ قدموں سے کمرے میں داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر بیڈ پر گہری نیند میں ڈوبی “میرب” پر جا ٹھہری۔ اس کا چہرہ کسی معصوم بچے کی طرح پُر سکون لگ رہا تھا، جیسے رات کے تمام خوف کہیں تحلیل ہو چکے ہوں۔ “رومان شاہ” آہستہ سے بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا، پاؤں لٹکائے، اور بنا پلک جھکائے “میرب ” کو دیکھنے لگا۔ یہ قربت ، یہ لمحہ ، جیسے صدیوں کا انتظار ہو۔ وہ بس یونہی بیٹھ کر اسے دیکھتا رہا، اس کی ہر سانس، اس کے چہرے کی ہر جنبش ، اس کے وجود کی حرارت کو اپنی آنکھوں میں جذب کرتا رہا۔
اس کی نگاہوں کی حدت “میرب” کے خوابوں میں رس گھولنے لگی تھی۔ وہ جیسے ہی اس کے لے سحر کو محسوس کرنے لگی، پلکوں کی جھالر آہستہ آہستہ لرزنے لگی۔ چند لمحوں بعد ، اس نے مدھم سانس لیتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں۔ پہلی نظر “رومان شاہ” پر پڑی۔
ایک پل کو اس کے وجود میں ایک گرم جوشی پھیل گئی۔ وہ بنا کچھ کہے بس ہلکی سی مسکراہٹ میں بھیگ گئی۔ وہ مسکراہٹ، جس میں اطمینان تھا، جس میں محبت تھی، اور جس میں اس بات کی گواہی تھی کہ اس کے دل میں اب کوئی خوف نہیں تھا۔ اب بس ایک ہی احساس تھا۔۔۔ ” شاہ” کی قربت کا، اس کی موجودگی کا، اس کے محافظ ہونے کا۔ یہ رنگ، یہ روشنی، یہ خوشبو ، سب اس کی گردن کے نرم خط ، اس کے نازک چہرے ، اور اس کے گلابی لبوں پر جیسے بکھر گئے تھے۔
رومان شاہ” نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور ملکی مسکراہٹ کے ساتھ سرگوشی کی “
“! . السلام و علیکم ، ” جان شاه “
“سجنادی آکھ کھل گئی ؟”

EPISODE 11 URDU SOURCE 1

EPISODE 11 URDU SOURCE 2

EPISODE 11 URDU SOURCE 3

EPISODE 11 URDU SOURCE 4

EPISODE 11 URDU SOURCE 5

Baba Turkish Series – (The Father) Season 1 Episode 11 Urdu Sub