Baba Turkish Series – (The Father) Season 1 Episode 10 Urdu Sub

رومان شاہ ” کی سختی سے پوچھنے پر بھی وہ عورت خاموش کھڑی تھی جیسے پتھر کی ” مورت ہو۔ اچانک ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، چہرے پر گھبراہٹ اور ہاتھ جوڑنے کو بے تاب تھا۔
پلیز سر ! ان کو کچھ مت کہیے ، یہ میری وائف ہیں۔ ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ” ” اور ۔۔۔ اور یہ بول نہیں سکتیں۔
رومان شاہ ” غصے سے بھری نظروں سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔ ہونٹ سختی سے ” بھینچے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ گردن موڑ کر اس عورت کو دیکھ
ا، جو بے حس و حرکت کھڑی تھی، بس نظروں کا ارتکاز عجیب طور پر “میرب ” پر مرکوز تھا۔
“تو پھر انہیں گھر پر رکھا کریں، یوں بازاروں میں گھمانے کی کیا ضرورت ہے ؟”
وہ شخص جلدی سے سر جھکائے، بیوی کا ہاتھ تھام کر پلٹنے لگا، مگر۔۔۔ برقع پوش عورت پلٹ کر پیچھے دیکھ رہی تھی، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو۔
میرب ” نے خود کو عجیب سے احساس میں گھر ا پایا۔ ” چلیں “شاہ”، میرے تو کندھے میں درد ہونے لگا ہے۔ عجیب بے وقوف عورت ” تھی !”
رومان شاہ” کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ سب کچھ جتنا نارمل نظر آرہا تھا اتنا ” نارمل ہے نہیں یا پھر وہ ضرورت سے زیادہ سوچ رہا ہے۔ وہ سوچوں کے ح حساب میں الجھا ہوا بچوں اور “میرب” کو اپنے ساتھ لیتا ہوا گاڑی تک پہنچا تھا۔
ے میں مدھم سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی، جیسے صبح اور رات کے درمیان ایک نرم سا پردہ ہو۔ کھڑکی کے پر دے ہلکی ہوا کے ساتھ تھوڑے تھوڑے ہل رہے تھے، پر بستر پر کمبل میں دیکی “مر ہا” کے لیے یہ سب بے معنی تھا۔ وہ تو پوری رات مزے سے خراٹے مار کر سوئی تھی، اور ” شاہ میر ” ، وہ بیچارہ پوری رات جاگتار ہا تھا کبھی تکیے پر سر رکھتا، کبھی گھڑی دیکھتا، کبھی اپنا ما تھا سہلاتا اور کبھی “مر با” کو گھورتا۔ پر مجال ہے جو اس محترمہ کو ذرا سا بھی احساس ہوا ہو
شاہ میر ” نے بے بسی سے ماتھے پر ہاتھ مارا، پھر گہر اسانس لیا اور آخر کار ہار مانتے ” ہوئے “مربا” کو جھنجھوڑا۔
” ! مربا”! اٹھو ، بہت ہو گیا سونے کا ڈرامہ “
مربا” نے آنکھیں کھولنے کی زحمت بھی نہیں کی ، بس ہال کا سامنہ بنایا اور مزید کمبل ” میں دبک گئی۔ “شاہ میر ” کی برداشت کی حد ختم ہو چکی تھی۔
“مربا”! خدا کا واسطہ ہے ، اب جاگ جاؤ۔”
مگر جواب میں صرف ایک ہلکی سی کروٹ ملی۔ “شاہ میر ” غصے سے دانت پیس کر رہ گیا۔
“مرا”! دیکھ لو، اگر اب بھی نہ اٹھی تو ” شاہ میر ” نے دھمکی دینے کے لیے جملہ مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ “مر ہا” نے نیند ” میں ہی ہاتھ بڑھا کر اس کے ہونٹوں پر رکھ دیا، جیسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی ہو۔
” پلیز زدھمکیاں دینا بند کریں مجھے سونے دیں۔”
مربا” نے نیند میں بڑ بڑاتے ہوئے کہا۔ “
اپنی جان سے پیاری بیوی سے زچ ہو کر ” شاہ میر ” نے گہری سانس لی۔ “مربا” نے اسکے ، ضبط کا آخری بندھن بھی توڑ دیا تھا۔ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے، کمبل ایک جھٹکے سے کھینچ کر اس سے دور پھینک دیا۔
“!!! میر۔۔۔۔۔۔۔”
وہ زور سے چلائی تھی۔
مربا” نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے ہاتھ کمبل کی جانب بڑھایا تھا۔ اسے نیند میں ایسا ” لگ رہا تھا کہ کمبل شاید بیڈ پر ہے مگر کمبل محترم تو بیڈ سے نیچے پھینکے جاچکے تھے۔
” محترمہ آنکھیں کھولنے کی زحمت کرو اور دیکھو کمبل صاحب بیڈ پر نہیں ہیں۔ ” مربا” نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر زمین پر گرے ہوئے کمبل کو دیکھا اور پھر “
بے چینی سے آنکھیں میچتے ہوئے احتجاج کیا
” ! یہ دھوکہ ہے “
” ! ظلم ہے “
” ! زیادتی ہے “
“زیادتی ؟”
“ظلم ؟ “
شاہ میر ” طنزیہ ہنسا تھا۔”
ظلم تو وہ تھا جو تم نے رات بھر میرے ساتھ کیا۔ میرے ارمانوں پر پانی پھیر کر ” ” ! خراٹے مار مار کے میری نیند اڑادی، اور خود خوابوں کی دنیا میں مزے لوٹتی رہی ہو مربا” نے آنکھیں کھولیں، خمار آلود نظروں سے اسے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے ” بولی۔ اوہ، تو آپ کو میری نیند پر جلن ہو رہی ہے ؟” وہ دانت نکالتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
” ج- جلن ؟”
شاہ میر ” نے حیرانی سے دہرایا۔ “
“ہاں، مطلب میں مزے سے سورہی تھی ، اور آپ جاگ رہے تھے ۔ “
مربا” نے آنکھیں سکوڑ کر شرارت سے کہا۔ “

EPISODE 10 URDU SOURCE 1

EPISODE 10 URDU SOURCE 2

EPISODE 10 URDU SOURCE 3

EPISODE 10 URDU SOURCE 4

Baba Turkish Series – (The Father) Season 1 Episode 10 Urdu Sub