Baba Turkish Series – (The Father) Season 1 Episode 8 Urdu Sub

رومان شاہ” کے چہرے پر نسیں ابھر نے لگی تھی۔ ماتھے پر غصے کی لکیریں اس کے ” چہرے کو دہشت ناک بنارہی تھی
۔ اس کے خوبصورت چہرے پر انتقام کی پر چھائیں نمایاں تھیں۔ وہ اس شخص کی چالا کی اور طنز کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اب ” رومان شاہ” کے ذہن میں کوئی بھی غلط فہمی نہیں رہی تھی۔ وہ جو سوچ رہا تھا، وہ بالکل حقیقت میں سامنے آچکا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جسے وہ اتنی شدت سے ڈھونڈ رہا تھا، اور اس کی آواز میں چھپی پر اسراریت نے اس کے شک کو یقین میں بدل دیا تھا۔
رومان شاہ ” : “نہیں، بڑی شدت سے مل کر تمہیں بیچ سے پھاڑ ڈالنا چاہتا ہوں۔” اس کے جسم کا ہر حصہ غصے کی شدت سے لرز رہا تھا، جیسے وہ کسی طوفان کے دہانے پر کھڑا ہو۔
کاشان رضوی”: “مگر افسوس کہ تم تو مجھ تک پہنچ بھی نہیں پار ہے۔”
کاشان رضوی ” کی آواز میں ایک سرد، محاذی لہجہ تھا۔ اس کی آواز نرم تھی، مگر ہر ” لفظ میں ایسا تھا جیسے وہ “رومان شاہ” کے غصے سے کھیل رہا ہو۔ اس کا اند از مکمل طور پر اعتماد سے بھر پور تھا، جیسے وہ ” رومان شاہ” کو بے بس دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا ہو۔ رومان شاہ” نے گہری سانس لی جیسے اپنے غصے کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔” ذرا سوچ، جس دن تجھ تک پہنچوں گا، تمہاری سانسیں بند کر دوں گا۔ ” رومان شاه ” دانت پیستے ہوئے بولا، جیسے ابھی لفظوں سے ہی مقابل کو مار ڈالے گا۔” کاشان رضوی ” کی باتوں میں عجیب سا تمازت تھا، اور “رومان شاہ” نے محسوس کیا ” کہ یہ شخص صرف اس کی زندگی کو برباد نہیں کر رہا، بلکہ اس کی طاقت ، اس کی محبت، سب کچھ چیلنج کر رہا تھا۔
کاشان رضوی ” فون کی دوسری جانب کہہ کر ہنس رہا تھا، اسے اپنی جیت کا نشہ کچھ ” ضرورت سے زیادہ ہی محسوس ہو رہا تھا۔
افسوس کہ تیرے کچھ کرنے سے پہلے ، میں تیری بیوی کے اتنا قریب چلا گیا، جہاں ” تک پہنچنے کے لیے بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کی آواز میں ایک طنز تھا، جو “رومان شاہ” کے اندر کی آگ کو مزید بھڑکا رہا تھا۔ اس کی ہر بات میں ایک عجب سا اطمینان تھا، جیسے وہ ہر لمحہ “رومان شاہ” کو تنگ کرنے کا لطف اٹھا رہا ہو۔
” ! رومان شاہ” (دھاڑتے ہوئے): “کتا آودی نسل تو پہچانیا جاندا اے ” ” تو کتے دی سب توں گندی برادری نال تعلق رکھدا اے۔’
“کتا جنا مرضی شاطر تے دلیر بن لوے، شیر دا مقابلہ نہیں کر سکدا۔”
” گیدڑ دی سو سالہ زندگی تے شیر دی زندگی دا ایک سال بھاری پہ جاندا اے۔”
رومان شاہ” کی آواز میں وہی وحشت اور دہشت تھی جو ایک شیر کی دھاڑ میں ہوتی ” ہے۔
وہ اس بات کو جان چکا تھا کہ یہ شخص اس کا دشمن ہے ، اور اب وہ بے قابو تھا۔ اس کی آواز میں غصے کا طوفان تھا، جس میں نہ کوئی رحم تھا، نہ کوئی ہچکچاہٹ۔
رومان شاه ” ۔ : ” جس دن تیر امیر اسامنا ہو گا، تینوں کتے تے شیر دی نسل دا فرق پتہ ” لگ جانا اے۔
کاشان رضوی”: “او مائی گاڈ، میں تو ڈر گیا۔ “
قیقے کے ساتھ ، طنز کرنے والے لہجے میں بولا۔
اس کی آواز میں واضح طور پر چیلنج اور مذاق کا تاثر تھا، جیسے وہ “رومان شاہ” کے غصے کا مذاق اڑا رہا ہو۔ رومان شاہ ” غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے، آنکھیں نیچی کر کے دانتوں کو پیس رہا” تھا۔
وہ اندر ہی اندر دہک رہا تھا، لیکن اس کا غصہ اس وقت بے اثر تھا کیونکہ “کاشان رضوی” سامنے نہیں تھا۔ اگر وہ اس وقت اس کے سامنے ہوتا، تو شاید “رومان شاہ” اسے فوراً شوٹ کر دیتا۔
رومان شاہ” کی آواز میں غصے کی گرج تھی۔”
تمہیں مجھ سے ڈرنا چاہیے۔ جس دن تمہار ا سا منا ہو گا، میں تمہیں دکھاؤں گا کہ ” میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کیا سزا ہے۔
” اس کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔
اور اگر میں کہوں کہ میں تمہاری بیوی کو اڑا کر لے جاؤں گا، تو تم کیا کرو گے ؟” کاشان رضوی” “رومان شاہ” کے ضبط کا شاید امتحان لے رہا تھا۔ “

EPISODE 8 URDU SOURCE 1

EPISODE 8 URDU SOURCE 2

EPISODE 8 URDU SOURCE 3

EPISODE 8 URDU SOURCE 4

Baba Turkish Series – (The Father) Season 1 Episode 8 Urdu Sub