Cirak 𝐶𝒉𝑎𝑖𝑙𝑎 – 𝑇𝒉𝑒 𝐹𝑖𝑓𝑡𝒉 𝑉𝑖𝑔𝑖𝑙𝑎𝑛𝑡𝑒 Turkish Drama – Season 1 – Episode 10 in Urdu Dubb

چلا گیا ہے یار ، نیچے اتر و، تمہارے ماں باپ شرم کے مارے بلش کر رہے ہیں۔” میرب ” ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے “رومان شاہ” کی گردن سے باز و نکالتے ہوئے ” نیچے کھڑی ہوئی، اور کچھ دیر بعد ” مربا” کو بھی ” شاہ میر ” نے زمین پر کھڑا کر دیا تھا، مگر دونوں شرم سے لال ہو رہی تھیں۔ دونوں کے بھائی پاس کھڑے تھے اور دونوں نے جو حرکت کی تھی ، اب وہ اپنے بھائیوں سے آنکھیں ملانے کے قابل نہیں تھے۔ ایک دوسرے سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں تھی۔ “میرب” نے اپنے ماں اور بابا سے ملتے ہوئے سیدھی “مربا” کے ساتھ اندر چلی گئی تھی۔
” کیا تم نے پولیس والے ہو کر گھر میں شور مچارکھا۔۔۔ ایک چوہا نہیں مارا گیا ؟” رومان شاہ” نے بیچارہ ہوتے ہوئے اپنی چھپی ہوئی ہنسی کو روکنے کی کوشش کی ، اور ” “شاہ میر ” سے ملتے ہوئے اپنے ساس سسر سے بات کر رہا تھا۔
” ! مامو، چوہا ایک نہیں، دو تھے ” عبد الرحمن” نے معلومات فراہم کی۔” مطلب تمہارا باپ کسی کام کا نہیں ہے۔۔۔ گھر میں چوہوں کی فوج تھی اور اس کو پتہ ” ” ! ہی نہیں چلا
رومان شاہ” نے “شاہ میر ” کو ٹونٹ مارتے ہوئے اپنے دونوں بھانجوں کو گود میں ” اٹھالیا۔
چلو اب تم ماما بھانجے مل کر شیروں کی فوج بنا لینا۔۔۔”
شاہ میر ” نے بھی فوراً سے جواب دیا اور ” آیت ” اور “رائم ” سے ملنے لگا تھا۔ “
” کیسا ہے میرا ” آیت ” بیٹا ؟”
” اور “رائم ” کیسے ہو میری جان ؟”
شاہ میر ” اپنے بھانجا اور بھانجی سے ملتے ہوئے بہت خوش اور پر جوش نظر آرہا تھا۔”
” ! ہم ٹھیک کے ماموں اور ہم دو دن کے لیے آپ کے گھر رہنے آئے ہیں “
آیت ” نے خوشی سے بتاتے ہوئے “شاہ میر ” کی گال کو پیار سے چوم لیا۔ “
” ! ادمائی گاڈ میر ابچہ دو دن ہمارے ساتھ رہے گا”” ! بہت مزہ آنے والا ہے “
شاہ میر ” نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نیچے جھک کر ” آیت ” کے ساتھ ساتھ ” “رائم ” کو بھی اٹھا لیا تھا اور دوسری جانب “رومان شاہ” نے بھی اپنے دونوں بھانجوں کو مضبوط بازوؤں میں اٹھا کر سینے سے لگارکھا تھا۔ دونوں کی محبت اپنے بھانجوں کے لیے ایک جیسی تھی۔
میرب ” اپنے مانگے آتے ہی جلدی سے کچن میں “مربا” کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہوئی ” چلی گئی تھی۔ یہ گھر اس کا اپنا تھا، یہاں آکر اسے اپنے بچپن اور جوانی کے گزارے ہوئے ہر دن یاد آجاتے تھے۔ یہاں آکر “میرب” کے چہرے کی رونق دیکھنے لائق ہوتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنے گھر میں خوش نہیں تھی یا اسے آزادی نہیں تھی، مگر ہر بیٹی کی طرح مانگے میں آکر ” میرب” کی خوشی کے رنگ انوکھے ہو جاتے تھے۔
میرب ” یار ، تم چل کر بیٹھو، میں ابھی تم لوگوں کے لیے مزیدار سموسے ، سینڈوچ ” ” اور چائے لے کر آتی ہوں۔
مربا” جو ملازمہ کے ساتھ جلدی جلدی ساری چیزیں ٹرالی میں لگوار ہی تھ تھی ، ” “میرب” کو دیکھتے ہی بولی تھی۔ ملازمہ نے مسکراتے ہوئے “میرب ” کو سلام کیا تھا۔ ” وعلیکم السلام ! ” کہتے ہوئے ” میرب” مسکرادی تھی۔
نہیں یار ، میں کیوں کچن میں نہ آتی ؟”
” میں تمہاری ہیلپ کروں گی۔”
تھینک یو یار! “میرب”، کچھ دن بچوں کے ساتھ یہاں آکر رکنے کے لیے بہت مزہ” ” ! آنے والا ہے، تمہیں نہیں پتہ میں کتنی ایکسائیڈ تھی مربا” نے خوشی سے بتایا۔”
مربا” یار ، مجھے پتہ ہے کہ تم بہت خوش تھی، اس کا نظارہ تو میں نے آتے ہی دیکھ لیا ” تھا۔ پورے گھر میں اتناشور کبھی نہیں کسی نے سنا ہو گا جتنا آج تم لوگوں نے مچارکھا ” تھا
میرب” نے ہنستے ہوئے کہا۔ ” ” ! سوفتی یار ، کتنافنی سین ہو گیا “
بھائی کیا سو چتے ہوں گے میرے بارے میں ؟
مرہا” نے شرماتے ہوئے کہا۔ “
تمہیں شرمانے کی ضرورت نہیں ہے ، وہی سوچ رہے ہوں گے جو میرے بھائی ” میرے بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔ میں نے بھی تو وہی حرکت کی ہے۔

EPISODE 10 URDU PLAY HERE

Ciraak Turkish Drama – Season 1 – Episode 10 in Urdu Dubbed