Suyuf Al-Arab – Knight of the Arabs – سيوف العرب – Swords of Arabia Arabic Drama Episode 3 with Urdu Subtitles
چلتی ہوں آنی “۔۔۔۔۔
رابی سلمی بیگم سے اجازت طلب ہوئی
“جائو بیٹا خیر سے اور یہ کچھ فروٹس ہے یہ لو اور امی کو میرا سلام دےدینا “۔۔۔۔ سلمی بیگم نے ربانیہ کے آگے فروٹس کے شاپر کیے “نہیں آنی ان کی کیا ضرورت ہے اور ویسے بھی امی غصہ کرے گی آپ تو جانتی ہے انہیں” ۔۔۔۔ربانیہ نے وہ شاپر نہی لیے “ہاں جانتی ہو سمیرا کی خوداری ساری زندگی اس نے خوداری میں گزار دی مگر یہ میں اپنی رابی کو دے رہی ہو لے کو شاباش ” انھوں نے ہنستے ہوئے دوبارہ شاپر بڑھائے جسے ربانیہ نے جھجکتے ہوئے تھام لیا “شکریہ آنی”۔۔۔ اس نے شاپر لینے کے بعد آنی کا شکریہ ادا کیا
سلمی بیگم نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا “اب جائو زایان باہر انتظار کررہا ہے” ۔۔۔۔۔سلمی بیگم نے باہر کی طرف اشارہ کیا
“خدا حافظ”
“خدا حافظ بیٹا ” اور وہ باہر چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“او ہیلو میڈم میں آپ کا درائیور نہیں ہو آگے بیٹھو” ۔۔۔۔۔ربانیہ کو کار کا پچھلا دروازہ کھولتا دیکھ زایان اس سے مخاطب ہوا “پتا نہیں کیا چاہتے ہے یہ ” ۔۔۔۔۔ وہ زیر لب بڑبڑائ اور کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں شاپر رکھے اور کار کا اگلا دروازہ کھول کار بیٹھ گئ “۔۔۔۔سیٹ بیلٹ باندھوں” وہ پھرسے بولا۔۔۔۔” جی” ناسمجھی میں اس کے منہ سے نکلا زایان نے سیٹ بیلٹ کی طرف اشارہ کیا
“مجھے سیٹ بیلٹ باندھا نہیں آتی”۔۔۔ ہنوز نظرے نیچے تھی” تو میں کیا کروں “۔۔۔۔ نظرے اچکائے بولا
وہ چپ رہی اب اس میں اور بولنے کی سکت نہیں تھی “اچھا میں خود باندھ دیتا ہو”کہتے ہی اس کی سیٹ بیلٹ باندھنے لگا دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھی ربانیہ کو تو سانپ سونک گیا مگر زایان بلکل کمفرٹیبل رہا
“لو ہو گئ کوئ اور حکم میرے لائق” ۔۔۔۔۔بیلٹ باندھنے کے بعد وہ پھر سے مخاطب ہوا ربانیہ نے سر نفی میں ہلایا اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی
مسلسل خاموشی کے بعد زایان نے میوزک آن کر دیا
منی بدنام ہوئ ڈالرنگ تیرے لیے
منی بدنام ہوئ ڈالرنگ تیرے لیے
منی کے گال گلابی ہونٹ شرابی چال لبابی رے
گانے کی آواز پوری کار میں گونجنے لگی
رابی نے خونخار نظروں سے زایان کو دیکھا
کیا؟؟؟؟
اس کے مسلسل گھورنے پر وہ انجان بن گیا
“آپ یہ گانا بند کرے ورنہ ” ۔۔۔۔وہ آج اس سے نظریں نہیں ملانا چاہتی تھی وہ آنی کے گھر سے سوچ کے آئ تھی کہ اب وہ اس سے بات نہیں کرے گی مگر وہ بار بار کوئ نہ کوئ ایسی حرکت کردیتا
“ورنہ کیا “۔۔۔۔اس نے آنکھیں اچکائے پوچھا
“ورنہ میں رو دوں گی” ۔۔۔۔اب وہ سچ میں رونا شروع ہوگئ
زایان بھی پچھتا رہا تھا کہ وہ رایان کی کار کیو لے آیا رایان نے صبح اس سے اس کی سپورٹس کار مانگی تھی جو زایان نے صرف آج کیلیئے کہ کر اسے دے دی
“اچھا یار کردیا بند بس رو تو نہیں” ۔۔۔۔۔
فورن میوزک بند کر دیا
اب وہ دونوں خاموش ہوگئے گاڑی گھر کے آگے رکی وی فورن گاڑی سے اتری اور جانے لگی اس کے قدم زایان کی آواز پر رکے” ربانیہ فروٹس تو لے جائو :وہ اپنی گلاسس اترے اسی کی طرف دیکھ رہاتھا ربانیہ نے فورن فروٹس کے شاپر اٹھائے اور چلی گئ جب تک وہ گھر نہیں گئ وہ اسے دیکھتا رہا جب وہ چلی گئ تواس نے اپنی گلاسس لگائے اور ہنستے ہوئے سر کو خمدیا اور چلا گیا
EPISODE 3 URDU SOURCE 1
EPISODE 3 URDU SOURCE 2
EPISODE 3 URDU SOURCE 3
EPISODE 3 URDU SOURCE 4
Suyuf Al-Arab – Knight of the Arabs – سيوف العرب – Swords of Arabia Arabic Drama Episode 3 with Urdu Subtitles