Teskilat / Intelligence/ The Organization : Shadow Team: Season 6 Episode 2 (150) in Urdu,

وہ ایک ہاتھ سے گڑیا کو تھامے ہوئے دوسرے ہاتھ سے “شاہ میر ” کا کندھا تھا مے کھڑی تھی۔
” شاہ میر ” ذرا سا نیچے جھکا ہوا تھا، اور ” مر با” کا دل تڑپ اٹھا تھا یہ منظر دیکھ کر۔ وہ ایسا کچھ بھی نہیں چاہتی تھی۔ “مربا” کی تربیت میں شوہر کی عزت کرنا سکھا یا گیا تھا۔
وہ کیسے “شاہ میر ” کو اپنے پیروں میں جھکنے دے سکتی تھی۔
شاہ میر ” نے پیار سے “مربا” کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔ “مربا” دل سے شاید “شاہ” میر” کو معاف کر چکی تھی کیونکہ “شاہ میر ” کی خود کشی والی حرکت نے “مر با” کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس کی نفرت ، اس کا غصہ ہار گیا تھا۔ آج محبت کی جیت ہو گئی تھی۔
شاہ میر ” اپنی بیٹی اور “مرہا ” دونوں کو ایک ساتھ اپنی بانہوں کی حراست میں لے ” کر پر سکون سا ہو کر ، آنکھیں بند کیے کھڑا تھا۔ یہ لمحہ ، یہ وقت صرف ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا، اور اس کے دل سے “رومان شاہ” کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں، جس کے آنے سے یہ سب ممکن ہو سکا تھا۔
عاصم شاہ” دبے دبے قدموں سے اپنے روم میں داخل ہوا تھا کیونکہ رات کافی ہو ” چکی تھی ، اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی پیاری سی “شفا” اور چھوٹا سا بیٹا ڈسٹرب ہو۔ عاصم شاہ” اپنے بیٹے ” اذان” سے بہت محبت کرتا تھا اور اولاد کی نعمت انہیں بہت ” مشکلوں سے نصیب ہوئی تھی۔ دو دفعہ “شفا” کا مس کیرج ہونے کے بعد دونوں نے ناامیدی کا دامن تھام لیا تھا ، مگر خدا نے انہیں ” اذان” دے کر ان کی مایوسی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ دونوں کی ” اذان ” میں جان بستی تھی۔
عاصم ” بڑے دبے قدموں سے روم میں داخل ہوا تھا، “شفا” جو اس کا انتظار ” کرتے کرتے ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہی سو چکی تھی، “عاصم ” کی آمد کو محسوس کر چکی تھی اور جلدی سے آنکھیں کھول کر مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
السلام علیکم ، میری جان جاگ رہی تھی ؟”
عاصم ” نے مسکراتی نظروں سے اس کے قریب جا کر ماتھے پر لب رکھتے ہوئے ” آہستہ سے پوچھا۔
نہیں، تھوڑی تھوڑی سو گئی تھی۔” وہ ” عاصم ” کے ہاتھ کو پکڑ کر پیار سے بولی۔
” اچھا، تھوڑی تھوڑی سونے کا مطلب کیا ہے ؟”
عاصم شاہ” مسکرادیا۔”
مطلب یہ کہ میں جاگ رہی تھی، مگر ابھی کچھ دیر پہلے پتہ نہیں میری کیسے آنکھ لگ ” گئی۔
تو میری جان، کیوں خود کو اتنی تکلیف دیتی ہو ؟”
عاصم ” نے نرمی سے کہا۔ “
میں نے کتنی بار کہا ہے کہ جب کبھی میں لیٹ ہو جایا کروں، تو تم سو جایا کرو اور ویسے ” بھی آج تمہیں پتہ تھا کہ “رومان ” بھائی کے ساتھ ایک عرصے بعد ملاقات نصیب ” ہوئی ہے، تو آنے میں دیر ہو جانی تھی۔ تمہیں سو جانا چاہیے تھا۔ ” جی نہیں، اچھی بیویاں اپنے شوہر کا انتظار کرتی ہیں اور میں اچھی بیوی ہوں۔” وہ پیار سے کہتے ہوئے اپنا سر اٹھا کر بازو اس کے گلے میں ڈالے ہوئے ، اس کے گلے سے لگی ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی۔
اچھا جی، مگر میں نے تو سنا ہے کہ اس سے بھی اچھی بیویاں وہ ہوتی ہیں جو اپنے شوہر ” کے گھر آنے پر ، یہاں پر کس دے کر اپنی محبت کا اظہار خود سے کرتی ہیں۔ عاصم شاہ” نے شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے، “شفا” کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے،” اپنے لبوں کو انگلی سے پوائنٹ کرتے ہوئے شوخ شرارتی انداز سے بولا۔
اس کے چہرے پر شرارت کی جھلک تھی، اور وہ “شفا” کے رد عمل کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔
شفا” کے چہرے پر سرخیاں دوڑ گئیں، وہ فوراً اپنی نظریں جھکا گئی۔ اس کا دل تیز تیز ” دھڑک رہا تھا ، اور وہ شرم سے ہننے کی کوشش کرتے ہوئے ، اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔
” بتائیں نا، میری اچھی بیوی تھوڑا اور اچھا بن کر یہ کرنے کو تیار ہے ؟”
عاصم ” نے “شفا” کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔ ” ” آپ تھکے ہوئے ہیں، آپ کو سو جانا چاہیے۔”
عاصم ” اس کے جواب پر ہنس دیا تھا۔ “
میرا سونے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اتنی زبردست پارٹی کے بعد کوئی بے وقوف ہوگا ” ” جو اپنی اتنی حسین بیوی کے پاس آکر سونے کو تیار ہو۔
اس نے “شفا” کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور آہستہ سے لبوں سے اس کی سانسوں کو قید کیا۔ دونوں کی سانسیں تیز ، ہو کر ایک دوسرے میں الجھتی چلی جارہی تھی ، دل ایک دوسرے میں دھڑک رہا تھا۔
وہ قطرہ قطرہ لبوں کی نمی کو پیتے ہوئے، مسرور سا ہوتا ہوا، اس پہ جھکتا، اس کی گرفت مضبوط کرتا جارہا تھا۔ “شفا” کی سانسیں تیز ہو کر اس کا دل بے اختیار دھڑک رہا تھا، وہ ہر لمحے میں ” عاصم ” کی محبت میں مزید ڈوبتی جارہی تھی۔ لبوں سے محبت کا جام پیتے ہوئے ، اس کی خوبصورت آنکھوں کو محبت سے چومتے چہرے سے گردن، اور گردن سے دھڑکنوں تک کا سفر طے کرتے ہوئے، محبت کے گہرے رنگ بکھیرتے ہوئے، اسے اپنی مضبوط گرفت میں شدت سے قید کرتا چلا جا رہا تھا۔ لمحہ لمحہ اس کے لبوں کی بڑھتی ہوئی حرارت کو نرم رعنائیوں پر محسوس کرتے ہوئے، وہ محبت میں سوکھے پتے کی طرح بکھرتی ہوئی اس میں سماتی جارہی تھی، اس کی ہر سانس میں صرف ” عاصم شاہ” کی سچی محبت کی مٹھاس کی چاشنی تھی۔ محبت کی چاشنی میں مسرور ہو کر ، ” عاصم شاہ” کی محبت کی بارش کبھی تیز تو کبھی نرم بوندوں کی طرحاس کے جسم پر بکھرتی جارہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی قربت میں ، محبت بھرے لمحوں کو سچائی کے ساتھ جیتے ہوئے ایک دوسرے میں پوری طرح سے سمائے ہوئے تھے۔ ہر لمس اور ہر سانس میں وہ ایک دوسرے کو اپنی دنیا میں سمیٹتے جارہے تھا۔
ڈاکٹر ” شاہ زیب ” دوستوں کی پارٹی سے تھکا ہارا گھر واپس آیا۔
روم کے دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے گہری سانس لی۔ نرم قدموں سے کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھولتے ہی نیم تاریکی نے اس کا استقبال کیا تھا۔

  1. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  2. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  3. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  4. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  5. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  6. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  7. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  8. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  9. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE
  10. EPISODE 2 (150) URDU SOURCE

Teskilat / Intelligence/ The Organization : Shadow Team: Season 6 Episode 2 (150) in Urdu